ہفتہ، 1 اگست، 2015

غیر ضروری پروگرام، ٹول بارز سے کیسے بچیں۔How to avoid unwanted Program and tool-bars

2 comments
عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ کمپیوٹر کے عام صارفین کے سسٹم میں کئی ایک غیر ضروری پروگرام انسٹال ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف آپ کی ہارڈ ڈسک میں جگہ گھیرے رہتے ہیں بلکہ یہ آپ کی معلومات کو بھی چوری کر سکتے ہیں اس کے علاوہ جو سب سے بڑا مسلئہ اس قسم کے غیر ضروری پروگراموں کی وجہ سے بہت سے صارفین کے کمپیوٹر میں دیکھنے میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے پراؤزر میں کئی ایک tool bars ہوتی ہیں اور براؤزر کی ونڈو کم اور tool bars زیادہ نظر آ رہی ہوتی ہیں۔
ہم مثال کے طور پر سامنے کی تصویر میں ایک براؤزر کی تصویر پیش کر رہے ہیں جس میں آپ بہت سی tool bars دیکھ سکتے ہیں۔ ہم یقین سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ کے برؤزر میں اس قسم کی tool bars موجود ہیں تو آپ نے ان میں سے آدھی بھی کبھی استعمال نہیں کی ہوں گی اور ناں ہی آپ نے یہ خود سے کسی خاص مقصد کے لئے انسٹال کی ہوں گی۔ بلکہ اکثر لوگوں تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ tool bars براؤزرکا حصہ ہیں۔ 
ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ tools bars آپ کے براؤزر میں دھوکہ دھی سے مختلف پروگرام انسٹال کرتے ہوئے دال دی جاتی ہیں یا تو آپ کو ان کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور آپ ان کو Yes کلک کر کے خود قبول کر لیتے ہیں۔

نیچے ہم ایک اور تصویر آپ کو دکھا رہے ہیں جو کہ ایک اصل حالت کے اور صاف ستھرے براؤزر کی ہے۔
اگر آپ سامنے دی گئی تصویر کا موازنہ اوپر والی تصویر سے کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی دو الگ الگ مخلوق ہیں۔ لیکن حقیت میں یہ دونوں ایک ہی براؤزر کی تصاویر ہیں جن میں سے اوپر والی میں بہت سی tool bars  انسال ہو گئی ہیں جب کہ سامنے والی تصویر میں براؤزر اپنی اصل حالت میں ہے۔




آئیے اب ہم یہ جانتے ہیں کہ ان غیر ضروری tool bars سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

اس کے لئیے ضروری ہے کہ کوئی بھی پروگرام انسٹال کرتے ہوئے جلد بازی میں Next Next پر کلک ناں کریں ایسا کرنے سے کئی فالتو پروگرامز بھی انسٹال ہو جاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر نچلے درجے کے سرچ انجن یا مختلف tools bars ہوتی ہیں جو کہ آپ کے براؤزر کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں اور یہ آپ کے براؤزر کو سست رفتار اور دیکھنے میں بھدا کرنے کے علاوہ آپ کو مطلوبہ سرچ کے بجائے اپنی مرضی کے نتا‎ئج کی طرف لے جاتے ہیں اس کے علاوہ ان میں سے کئی پروگرام ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو نظر نہیں آتے لیکن یہ آپ کی معلومات کو وقفے وقفے سے اس کو بنانے والی کمپنی تک پہنچاتی رہتی ہیں جس سے ناں صرف آپ کی معلومات غیر محفوظ ہو جاتی ہیں بلکہ آپ کا انٹر نیٹ بھی غیر ضروری استعمال ہوتا رہتا ہے جس سے آپ کو اضافی بل یا سست رفتار انٹرنییٹ انتعمال کرنا پرتا ہے۔ اس لیے انسٹالیشن کے دوران ایسے چیک باکسز کو ہٹا دیں اور کوشش کریں کہ اگر سیٹ اپ میں custom installation کا آپشن ہو تو  کسٹم طریقے سے انسٹالیشن کریں۔

اس کو بہتر طریقے سے سمجھانے کے لئے ہم آپ کو مشہور زمانہ Skype کی مثال دے رہے ہیں۔
سامنے کی تصویر سکائپ کی ہے جو کہ آپ انسٹال کرنے دوران دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ آپ سامنے کی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں بہت سے آپشن ہیں اور ان کے ساتھ ایک خانے میں چیک کرنے کا آپشن ہے۔ عام طور پر اس قسم کے خانے پہلے سے ہی چیک ہوئے ہوتے ہیں اور آپ کو ان کو ان چیک کرنا ہوتا ہے۔ 
اس میں مختلف آپشن کو نمبر کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
1) Desktop ( آپ کے کمپوٹر کی سکرین) پر سارٹ کٹ بنائیں۔ (بعض حالات میں ضروری ہے)
2) سیٹ اپ مکمل ہونے کے بعد پرگرام خود بخود چل پڑے۔ (یہ آپ کی مرضی پر منحضر ہے)
3) پروگرام ونڈوز کے ساتھ ہی سٹارٹ ہو جائے گا۔ ( یہاں غیر ضروری ہے لیکن بعض پرگراموں میں ضروری ہے)
4) یہاں آپ سے موزیلا براؤزر FireFox میں سکائپ plugin انسٹال کرنے کی اجازت مانگی جا رہی ہے جو کہ عام طور پر عام صارفین کے لئے بالکل غیر ضروری ہے اور ہم اس کو ان چیک کر کے انسٹال ہونے سے روک سکتے ہیں۔
5) یہ بھی نمبر 4 کی طرح internet Explorer پر وہی plugin انسٹال کرنے کی اجازت مانگی جا رہیں ہے۔
نوٹ:- اوپر دیا گیا سیٹ اپ صرف مثال کے طور پر ہے اسکائپ یا دوسرے پروگراموں میں یہ آپشن یا انسٹال ہونے والی چیزیں مختلف ہوتی ہیں۔

اگر آپ کے براؤزر میں پہلے سے یہ tool bars انسٹال ہو چکی ہیں اور آپ اس کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو براہ مہربانی کمنٹ میں اس کا ذکر کریں یا رابطہ فارم پر ہمیں اس کے بارے میں آگاہ کریں۔

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔